وقت پھر قابل فخر غلامانِ محمدۖ کا منتظر ہے
اللہ کے بندو! میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتاہوں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ صرف متقیوں کے ہی نیک اعمال قبول فرماتا ہے۔
اللہ کے بندو! ڈنمارک ایک یورپی ملک ہے، ہمارے اور ان کے درمیان سفارتی تعلقات، تجارتی معاملات اور بین الاقوامی معاہدات ہیں۔ ہم نے انہیں کوئی اذیت نہیں پہنچائی اور نہ ہی ان پر کسی قسم کی زیادتی کی ہے۔ قریب و بعید میں ہم نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔
لیکن سارا عالم کفر ملت واحد ہے۔ ان کافروں کے دل مسلمانوں کے خلاف حسد و عداوت اور بغض و نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بات اللہ رب العزت بھی جانتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں کئی ایک مقامات پر اللہ رب العزت نے ان کے مکر و فریب اور اسلام کے خلاف ان کی دسیسہ کاریوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَدَّ کَثِیْر مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ۔(البقرہ:١٠٩)
''ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جانے کے، محض حسد و بغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔
نیز فرمایا:
وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآئً۔(النسائ:٨٩) ''ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وہ ہیں، تم بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو۔''
آخر آج کل ڈنمارک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حالیہ نفرت انگیز مہم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ڈنمارک ڈھٹائی پر کیوں اترا؟ اس کا جواب یہ ہے:
١ـ انہوں نے سنا جیسے دنیا والوں نے سنا کہ آج دنیا کے چاروں کونوں میں پھیلے ہوئے مسلمان کس بری طرح پنجۂ ظلم و استبداد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ قوم جس کا مقام عزت و رفعت، عظمت و سربلندی تھا آج بری طرح شدید ذلت و رسوائی سے دوچار ہے۔
٢ـ انہیں ہمارے فلسطین و مسجد اقصیٰ کے متعلق خبریں پہنچیں کہ کس طرح مسلمان وہاں بے سروسامانی کی حالت میں پتھروں کے ذریعے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں اور دوسری طرف ان کے مسلمان ساتھی انہیں فراموش کیے بیٹھے ہیں۔
٣ـ انہوں نے سنا کہ مسلمانوں نے کس طرح اپنی مسلمان پاک دامن بہنوں کو چیچنیا و بوسنیا میں ان کی مدد نہ کر کے انہیں شرمندہ کیا۔
٤ـ انہیں امریکیوں کے عراقی مسلمانوں پر ناپاک حملوں کی خبریں ملیں اور انہیں بتایا گیا کہ اس موقعہ پر بھی کوئی مسلمان ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ ان واقعات پر امت مسلمہ کی مفلوجیت کو انہوں نے دیکھا۔
٥ـ بلکہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کو ٹائلٹ میں بہایا گیا، جلایا گیا، قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی، لیکن مسلمانوں نے کیا کر لیا سوائے چند دن کے شور و غوغا کے۔ اس کے بعد زندگی کے معمولات اپنی روٹین میں رواں دواں ہو گئے۔
٦ـ انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں یہودیوں کو یہ کہتے بھی سنا: کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) وفات پا گئے اور اپنے پیچھے لڑکیاں چھوڑ گئے۔ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی نسل کشی ہو گئی۔ (والعیاذ باللہ)
٧ـ عصر حاضر میں عالم کفر کی طرف سے مسلمانوں پر شدید ترین مظالم کے باوجود اسلام کی مقبولیت کا پوری دنیا بالخصوص یورپی ممالک میں بڑھنا ان کے سامنے ہے۔ آج امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں اسلام وہاں کا دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے اور کوئی تعجب نہیں کیونکہ تمام انسانوں کی پیدائش اسلام اور توحید پر ہوتی ہے، اس لیے توحیدان کی فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح عہدالست سے واضح ہے۔
٨ـ ان کا اس بات سے خائف ہونا کہ کہیں مسلمان ناقابل تسخیر قوت نہ بن جائیں اور زمامِ اقتدار ان کے پاس نہ آ جائے۔
٩ـ عصر حاضر میں جب کہ مسلمان سیاسی و عسکری طور پر مغلوب تھے بلکہ وہ کفار کے شدید ترین مظالم کا شکار تھے تو ان حالات میں بھی جب انہوں نے اسلام کو مسلسل پھیلتا اور پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھا، جس میں انہیں اپنی باطل قوتوں اور شیطانی طاقتوں کے شیرازے بکھرتے نظر آئے۔ اسلام کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چڑھتا دکھائی دیا۔ توحید کا آوازہ گونجتا دکھائی دیا۔ اسلام کا پھریرا چہار دانگ عالم لہراتا ہوا نظر آیا تو انہوں نے مسلمانوں کے پیر و مرشد، رہبر و رہنما جناب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذاتِ اقدس پر نعوذ باللہ کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا، اسلام کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ دیکھ کر وہ بری طرح خوفزدگی اور جھنجلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ وہ کسی پاگل کتے کی طرح بالآخر گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے۔
اہانت و بدگوئی، فحش کاری اور دریدہ دہنی امریکہ و یورپ کے نام نہاد تہذیب یافتہ جانوروں کا خاص شیوہ ہے۔ آج جو لوگ ترقی کے اوج کمال پر براجمان نظر آتے ہیں اور جن کی ظاہری چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی ہے وہ اپنے باطن کی غلاظت اگل رہے ہیں۔ وہ رحمت عالم، محسن انسانیت امام المعصومین، خاتم النبیین سیدنا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
کون محمدۖ؟ وہ رسول محترمۖ جو دنیا کے سب سے عظیم انسان، جو صورت میں اجمل، سیرت میں اکمل، نبیوں رسولوں کے سردار، مقامِ محمود پہ فائز ہونے والے، اسراء و معراج سے مشرف ہونے والے، جن کے اشارے سے جنت کے دروازے کھلنے ہیں جو دنیا میں نور کا سا چشمہ بن کر آئے اور ساری کائنات کو کتاب و سنت کے نور سے منور فرما گئے۔ جن کی ذاتِ اقدسۖ ہمارے لیے محورِ ایمان، مرکز اطاعت و محبت اور مرجع ہدایت ہے۔ اگر ایک مسلمان کی زندگی سے معاذ اللہ آپ کو نکال دیا جائے تو کیا باقی بچتا ہے؟
بردرانِ اسلام! مسلمان اپنے علوم و عمل میں کمزور ہو سکتا ہے، وہ گناہوں اور مصیبتوں کی دلدل میں ڈوب سکتا ہے۔ وہ بے عملی و بدعملی کا مرقع ہو سکتا ہے مگر اس کے دل میں کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ نے پیغمبر اسلام سے محبت و راختگی کا جو توانا بیج بو دیا ہے اسے کوئی نکال نہیں سکتا۔ کوئی دم بریدہ سگ کوئے غلاظت آپ کی شان میں ہرزہ سرائی اور دشنام طرازی کرے اور مسلمان چین کی نیند سوئے یہ ممکن نہیں۔ اس بیچارے مسلمان کی تو دین و دنیا کی بھلائی آپ کی ذات سے وابستہ ہے۔ ہاں! وہ آپۖ کی ناموس کے تحفظ کے لیے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔
اللہ کے بندو! ان سے پہلے بھی لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کیں اور آج انہیں بھی ایسا کرنے کی جرأت اس لیے پیدا ہوئی کہ معاذ و معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہم دو ننھے مجاہدوں جیسا کوئی مجاہد آج انہیں مسلمانوں کی صفوں میں نظر نہیں آ رہا۔ ورنہ کبھی بھی اللہ کی قسم! وہ ایسی دریدہ دہنی کی جرأت و جسارت نہ کرتے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں مَیں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جب دائیں بائیں دیکھا تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نو عمر لڑکے تھے، میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زیادہ طاقتوروں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا اور پوچھا چچا جان! مجھے ابوجہل کو دکھلا دیجیے۔ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم اسے کیا کرو گے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہو گا۔ یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔
مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی، پھر دوسرے نے مجھے چھوا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ میں نے چند ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابوجہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا: ارے دیکھتے نہیں! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ یہ سنتے ہی دونوں نے اپنی تلواریں لیں جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کر دیا۔(صحیح البخاری، فرض الخمس، باب من لم یخمس الاسلاب 502/4)
مسلمانو! بتاؤ آج تم میں سے کون اپنی جان ناموسِ رسالتۖ پر قربان کرنے کے لیے تیار ہے؟ کون اللہ کے ان دشمنوں کو ان کے کیفردار تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے؟
اللہ کے بندو! یاد رکھو ان کا علاج کل بھی جہاد تھا اور آج بھی جہاد ہے۔ دیر بدیر یہ اسی علاج سے ہی بالآخر درست ہوں گے۔ کل کے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج تھا اور آج کے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج ہے۔
١٠ـ جس چیز نے ان کے غیظ و غضب کو بھڑکایا وہ یہ تھی کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں میں باوجود مسلمانوں کی توہین و تذلیل، تنقیص و تحقیر کے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ انہیں اور ان کے اتحادیوں منافقوں کو ''جو ہمارے درمیان رہتے ہیں، اغیار کے لیے اپنے ملکوں کے دروازے کھول کر ان کا استقبال پُرجوش اور ان کی طرف سے عطا کردہ سہولیات کا استعمال کرتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کی کثرت تعداد نے انہیں آگ بگولا کر دیا ہے۔
١١ـ جس چیز نے ان کافروں کو سیخ پا کیا وہ یہ کہ مسلمانوں کا اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کے جواب میں باوجود اس کے کہ وہ مسلمان سیاسی و عسکری طور پر ہر طرح سے کمزور ہیں۔ ان کافروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا، ان کے چھکے چھڑانا، پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم طریقے سے عراق میں کافروں کے مسلمانوں پر حملوں کا تابڑ توڑ جواب دینا جبکہ کافروں نے مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی کا اسلحہ استعمال کر کے دیکھ لیا، لیکن ان کے تمام جدید اسباب و وسائل کو اللہ کے شیروں نے رب کے حکم سے ناکارہ کر کے آگے بڑھنے کا جو عملی ثبوت پیش کیا، جس کے نتیجے میں انہیں اپنا زوال قریب نظر آنے لگا تو انہوں نے چاند پر تھوکنے کی ناپاک کوشش کی۔ نتیجتاً تھوک ان کے اپنے ہی اوپر آ گرا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنائے۔ ان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار لہراتے ہوئے دکھایا گیا اور آپۖ کے ساتھ چند برقع پوش خواتین کو دکھایا گیا۔ دوسرے خاکے میں آپۖ کی چادر (صافے) کو بم کی شکل میں دکھایا گیا۔
ان خاکوں سے یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے کہ اسلام اعلیٰ مذہب نہیں۔ مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم معاذ اللہ تخریب کار تھے۔ یہ قتل و غارت کا گروہ ہے جو (نقل کفر کفر نہ باشد) ]نعوذ باللہ[ ایک زانی، قاتل، لٹیرے، مجنوں پیغمبر کی مجنونانہ باتوں کی پیروی کرتا ہے جس نے ایک دہشت ناک معبود بنایا جس کا نام ''اللہ'' رکھا۔
آخر یہ کافر اس بات کو کیوں بھول گئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جرنیل المجاہدین تھے اور آپۖ کے جانثاروں کی سب سے بڑی تمنا، آرزو اور خواہش شہادت فی سبیل اللہ کا حصول ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: ''اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بھرپور تمنا رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر (چہار بارہ) زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں۔'' (صحیح بخاری)
وَ ذَالِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَ اَنْ یَّشَا… یُبَارِکْ عَلٰی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعَ۔
''یہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے وہ چاہے تو بوٹی بوٹی کٹے ہوئے اعضاء کے جوڑ جوڑ میں برکت ڈال دے۔''
١٢ـ آج یہ کافر اس وجہ سے بھی ڈھٹائی پر اترے کہ ان کے عورت کے حق میں نعرہ آزادی لگانے، حیا باختگی کا چمکیلے غلاف والے پھولوں کی سجاوٹ میں سبق دینے اور عورت کو مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود مسلمان عورتوں کا ان کی ان تمام فریب کاریوں کو پاؤں کی نوک سے ٹھوکر مار دینا اور مکمل باپردہ ہو کر گھروں سے باہر نکلنا، حتیٰ کہ یورپ میں بھی مسلمان عورتوں کا پردہ نشین ہونا ان کو پسند نہیں آیا جس کے نتیجے میں انہوں نے توہین رسالت جیسے تاریخی گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا۔ یہ کافر اس بات سے کیوں ناآشنا ہیں کہ یہ مسلمان امہمات المؤمنین سیدہ خدیجہ، عائشہ اور اُمِ حبیبہ رضی اللہ عنھن کی روحانی بیٹیاں ہیں اور وہ مردوں سے پہلے اپنی جانیں ناموسِ رسالتۖ پر قربان کرنے کے پُرجوش جذبات رکھتی ہیں۔
جنگ اُحد میں نازک ترین لمحات کے موقع پر جن مسلمانوں نے بے مثال جانبازی اور تابناک قربانیوں کا مظاہرہ کیا، ان میں ایک نادر کارنامہ خاتون صحابیہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا بھی ہے جنہوں نے انتہائی پامردی و جانبازی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔
سنو: مسلمان مردو! تمہاری غیرت کہاں کھو گئی: ایک عورت ہاں ہاں ایک عورت جو صنف نازک ہونے کے باوجود پیغمبر اسلام کا دفاع اپنے جسم پر تیر و نیزے کے وار کھا کر کرتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دائیں اور بائیں دیکھتا ہوں تو مجھے ام عمارہ میرا دفاع کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ اے ام عمارہ رضی اللہ عنہا آپ کتنے عظیم حوصلے والی ہیں۔ بتائیے آپ کی کوئی دنیاوی ضرورت ہو؟ ام عمارہ رضی اللہ عنہا جواب میں عرض کرتی ہیں… اے اللہ کے رسولۖ! ہم چاہتے ہیں کہ جنت الفردوس میں ہمیں آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ پیارے رسولۖ نے فرمایا: ہاں تم سب جنت میں میرے رفیق ہو گے۔
برادرانِ اسلام! 30 ستمبر 2005ء بروز جمعة المبارک کو ڈنمارک کے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 توہین آمیز خاکے شائع کیے۔
ان خاکوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طرح توہین کی گئی ہے اسے کوئی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ اور گنہگار سے گنہگار مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کافر کھلم کھلا دیدہ دلیری کے ساتھ ہمارے پیغمبرۖ کی توہین کریں اور ہم یہ کہیں کہ اسلام شدت پسندی، تخریب کاری، دہشت گردی، زمین میں قتل و غارت گری اور فساد پھیلانے کا حکم نہیں دیتا۔ اسلام روشن خیالی، رواداری، عفو و دَرگزر اور معاملات کو سلجھانے کے لیے نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی شان یوں بیان نہیں فرمائی:
اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ (الفتح:٢٩) ''کہ وہ کافروں پر سخت ہیں۔''
اللہ کی قسم! اگر یہ سنگین معاملہ سلامتی کے ساتھ گزر گیا تو اس سے بڑی ذلت و رسوائی والی بات کوئی اور نہ ہو گی۔ جو امت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔
ہمیں اپنی کم ہمتی، پست حالی اور حالت ضعف ایمانی پر خوب رونا چاہیے اور اللہ کے حضور یوں دعا گو ہونا چاہیے کہ:
اے رب العالمین! ہماری اولاد کو ہم جیسا بزدل اور کمزور ایمان والا نہ بنانا کیونکہ ہم نے جب سے کافروں کی مصنوعات کا استعمال کیا ہے۔ ہم دنیا اور مال و دولت کی ہوس کے پجاری بن چکے ہیں۔ ہمیں شہادت کی موت سے نفرت ہو چکی ہے۔ ہاں اب تو ہمارے حق میں یہی چیز بہتر ہے کہ ہم نقاب پوش عورتوں کی طرح نقاب کر کے گھروں سے نکلیں تاکہ ان کافر ہیجڑوں کو آزادی اظہار رائے کے نام پر ہمارا مذاق اڑانے کا موقع ہی نہ ملے۔ یورپ اور امریکہ کے اخبارات ہولوکاسٹ کے بارے میں ایک لفظ لکھنے یا ہندوؤں کا مذاق اڑانے کی جرأت نہیں کرتے مگر مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پیغمبر اسلامۖ کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کیا گاؤ پرست ہم سے زیادہ دلیر اور بہادر ہو چکے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری محبتوں کے وہ بلند بانگ دعوے کہاں گئے؟ آج مسلمان حکومتوں اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کا کیا کردار ہے؟ مسلمان حکمرانوں کی پُراسرار خاموشی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محب صادق جانثار صحابی عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
''خالد الہذلی میرے قتل کے درپے ہے اور مجھے اذیت پہنچا رہا ہے۔ ابن انیس نے کہا:
رُوْحِیْ لِرُوْحَکْ فِدَائُ مُرْنِیْ بِمَا تَشَآئُ۔
''میری جان آپۖ پر قربان، حکم کیجیے! آپۖ نے فرمایا: مکہ جاؤ اور خالد الہذلی کا سر میرے پاس لے کر آؤ۔ اللہ اکبر! ابن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نہیں کہا: میں اکیلا کیسے اس کا مقابلہ کر سکوں گا، مجھے کچھ افراد درکار ہیں، میرے پاس اسلحہ نہیں۔ یہ بڑی مشکل اور پُرخطر مہم ہے، نہیں نہیں… ابن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تن تنہا، اللہ رب العزت کی ذات عالیہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے مکہ گئے اور 18 روز باہر رہ کر 23 محرم کو واپس تشریف لائے۔ وہ خالد کو قتل کر کے اس کا سر بھی ہمراہ لائے تھے۔ آج ہماری حالت تو یہ ہے کہ مرغی یا بکری کو ذبح کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ جوانمرد، بہادر اور دلیر لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کے باغیوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کی گردنیں کاٹنے کے خوگر تھے۔
جب خدمت نبویۖ میں پیش ہو کر یہ سر آپۖ کے سامنے پیش کیا تو آپۖ نے فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہوا اور انہیں ایک عصا مرحمت فرمایا اور فرمایا کہ یہ میرے اور تمھارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ چنانچہ ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ یہ عصا بھی ان کے ساتھ ہی ان کے کفن میں لپیٹ دیا جائے۔ (زاد المعاد 108/2 ، وابن ہشام 720-719/2)
اللہ کے بندو! ہاں کل قیامت کے دن جب ابن انیس وہ عصا لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ یہ عصا اللہ کے رسولۖ کی ناموس کے تحفظ کی علامت ہے۔
بتایئے! آج ہم نے تحفظ حرمت رسولۖ کے لیے کیا قربانی پیش کی ہے کہ جسے بطور علامت کے ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کر سکیں گے؟
آج کافر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں، مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کو قدموں تلے روند کر بے حرمتی کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام کو گالیاں نکالتے ہیں اور پھر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، چوری اوپر سے سینہ زوری کے مصداق مسلمانوں کے خلاف یہ بکواس کرتے ہیں… کہ مسلمان دہشت گرد، تخریب کار، معاشروں کے کینسر شرپسند اور انتہا پسند لوگ ہیں۔
تو یہ ہمیں بتائیں کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد یہ ہمیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں کیا ہم ان کے سامنے منہ کے بل لیٹ جائیں اور یہ ہمارے مونہوں کو اپنے قدموں تلے روندتے پھریں؟ کیا یہ ہم سے یہی چاہتے ہیں…؟
یورپ میں ایک عام بدکار ترین شخص کی توہین بھی جرم ہے، لیکن آزادی اظہار کے تقاضے پورے کرنے کے لیے صرف اسلام ہی ان کا تختہ مشق رہ گیا ہے۔
ڈنمارک میں قانونی طور پر مذاہب کی توہین جرم ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام کا مذاق اڑانا جرم نہیں ٹھہرا تو یہ مغرب کی کھلی منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟
آج وقت پھر کسی معاذ و معوذ، ابن انیس اور صحابہ کرام جیسے قابل فخر غلامانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا منتظر ہے؟ یہ واقعہ سنو اور آؤ ہم سب مل کر اپنی بزدلی اور کم ہمتی پر روئیں۔
عیسائیوں نے ہلاکو خان کے دور میں منگولوں کے ایک سردار کے عیسائیت اختیار کرنے کے موقع پر ایک عظیم الشان محفل کا انعقاد کیا، اس موقع پر ایک عیسائی پادری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہنا شروع کر دیے۔
پاس ہی بندھا ہوا کتا اس پر جھپٹ پڑا۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے بچ بچاؤ کرا دیا، ایک شخص اس عیسائی پادری سے کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے یہ کتا تم پر حملہ آور ہوا ہے۔
اس نے طنزیہ انداز میں کہا: نہیں یہ کتا بڑا خوددار ہے، اس کی عزت نفس نے میرے ہاتھ کے یوں یوں والے اشارے کو دیکھ کر یہ خیال کیا کہ شاید میں اسے مارنا چاہتا ہوں، یہ دیکھ کر اس نے بھونکنا شروع کر دیا۔ پھر اس عیسائی نے دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں پہلے سے زیادہ بدگوئی کرنا شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر کتا اپنی رسی توڑ کر، شیر کی طرح جست لگا کر اس عیسائی پادری پر جھپٹ پڑا اور اپنے نوکیلے دانت اس کی گردن میں گاڑ دیے۔ نتیجتاً وہ شخص جہنم واصل ہوا، اس منظر عجیب کو دیکھ کر چالیس ہزار منگول حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔
الدر المنشور لابن حجر۔(ج٢)
''اللہ کے بندو! کتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر غضبناک ہو گیا اور اس نے کس انداز سے اپنے غیرت مند ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ آج ہماری غیرت کہاں رخصت ہو گئی؟
اللہ کی قسم! جمادات و حیوانات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے شوق میں تڑپ گئے، کیا آج یہ شوق ہمارے اندر سے بالکل ختم ہو چکا ہے؟ جبکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ ملاقات اور ہمیں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپۖ نے فرمایا: تم میرے ساتھی ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے ''وہ مجھ پر بنا دیکھے ایمان لائے اور میری نبوت اور رسالت کی تصدیق کی۔''(صحیح مسلم)
اے امت محمدۖ! بتاؤ کل جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حوضِ کوثر پر جاؤ گے تو امام الابنیاء حبیب رب کبریا تم سے پوچھیں گے بتاؤ دشمنانِ اسلام نے میری عزت و حرمت پہ ڈاکے ڈالے، مجھے خوب اذیتیں پہنچائیں تو تم نے میری عزت و آبرو، حرمت و ناموس کے دفاع میں کیا کردار پیش کیا؟
اس موقع پر عالم اسلام کے مسلم حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اسلامی غیرت وحمیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی مصلحت اور مفادات سے بالاتر ہو کر ان ممالک کا مکمل سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے اور جب تک مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی، عالم اسلام ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہ کرے تاکہ عالم کفر کو معلوم ہو جائے کہ مسلمان اپنے پیغمبرۖ کی شان میں نہ کسی گستاخی کو برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس مذموم فعل کی معافی کا کوئی سوال ہے۔
No comments:
Post a Comment